Saturday, January 5, 2019



آپ پر فرض تو نہیں ہے لیکن اگر بات پوری سن لیں تو کئی شکوک و شبہات اور غلط فہمیاں  دور ہوسکتے ہیں۔

جب پاکستان کا کل بجٹ 903 ارب تھا اس وقت دفاع کا حصہ 194 ارب یعنی کل بجٹ کا 21 فیصد تھا اور آج 15 سال بعد جب ملک کا بجٹ پانچ ہزار ارب کے قریب ہے تو اس  میں سے دفاعی بجٹ کا حصہ اٹھارہ فیصد ہے۔



صرف پاکستان آرمی (نیوی، ائرفورس کے علاوہ)سترہ ارب سے زیادہ قومی خزانے کو براہ راست واپس کرتی ہے۔
231 ملین جنرل سیلز ٹیکس
1257 ملین ( تقریباً سوا ارب) آفیسرز اور جونئر کمیشنڈ آفیسرز کی طرف سے دیا گیا انکم ٹیکس۔
557 ملین۔  ہاؤس رینٹ الاؤنس کی مد میں ۔ یہ  وہ آفیسرز، صوبیدار صاحبان اور سپاہی دیتے ہیں جو سرکاری گھروں میں رہتے ہیں۔ وہ افسران جو کمروں میں رہتے ہیں وہ بھی بنیادی تنخواہ کا 5 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کرواتے ہیں۔ بجلی، گیس اور پانی کا بل واپڈا اور سوئی سدرن / ناردرن کو علیحدہ جمع کروایا جاتا ہے۔
ملڑی انجنئرنگ سروس (MES) کی طرف سے کیجانے والی تعمیرات میں شامل ٹیکس 2642 ملین۔
مخلتف سپلائز کی مد میں 3 فیصد دئے جانے والا ٹیکس 2200 ملین۔
پاک فوج جو کسٹم ڈیوٹی دیتی ہے وہ 2000 ملین۔
دفاعی پیداوار اور سازو سامان جو برآمد کیا جاتا ہے اس پر سیلز ٹیکس 2500 ملین۔
ملٹری فارمز جو کہ (سول سروس کے گروپ) ملٹری لینڈ اینڈ کنٹونمٹس سروسز کے ماتحت ہوتے ہیں قومی خزانے کو 500 ملین دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔

اس کے علاہ وہ ادارے جو آرمی ویلفئر ٹرسٹ، فوجی فاؤنڈیشن، NLC, FWO, CSD  وٖٖغیرہ  قومی خزانے کو جو دیتے ہیں وہ الگ۔
فوجی فاؤنڈیشن جو کہ فوج سے ریٹائرڈ ملازمین کا ادارہ ہے اور جس کے پے رول  پر کوئی حاضر سروس نہیں ہوتا (اور نا ملکی یا دفاعی بجٹ سے اس تنظیم کو کوئی پیسہ ملتا ) ملکی خزانے میں ڈیڑھ کھرب کا حصہ کا ڈالتا ہے۔
آرمی ویلفئر ٹرسٹ 1531 ملین، این ایل سی 822 ملین، ایف ڈبلیو او، 958 ملین اور سی ایس ڈی 561 ملین قومی خزانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ یعنی پاک آرمی کی طرف سے بالواسطہ دو کھرب کے قریب کے قومی خزانے کو دیا جاتا ہے۔

ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے پلاٹ یا عسکری ہاؤسنگ کے فلیٹ اور گھر، کسی آرمی آفیسر یا جونئر کمیشنڈ آفیسر کو کچھ بھی مفت نہیں ملتا۔ میں دوہراتا ہوں۔ کسی آرمی آفیسر یا جونئر کمیشنڈ آفیسر کوئی پلاٹ یا گھر مفت میں نہیں ملتا۔  نا ہی ڈی ایچ اے کو کوئی زمین مفت ملتی ہے بلکہ دوسرے ہاؤسنگ پراجیکٹس کی طرح زمین سرکار سے خریدی جاتی ہے یا جو بھی مالکان ہوں ان سے۔ ڈی ایچ اے لاہور کے بیچوں بیچ ایک پنڈ کے لوگوں نے اپنی زمین بیچنے سے انکار کردیا تو وہ پنڈ آج بھی  وہاں آباد ہے۔ بلکہ ڈی ایچ اے نے اس پنڈ کے لوگوں کو الگ سڑک بنا کر دینی پڑی۔
20 سال کی عمر میں کمیشن پانے والا ایک افسر اپنی 25 سے 30 سال کی سروس میں اپنی گنجائش کے مطابق ہر ماہ پانچ، دس ہزار روپے اپنی تنخواہ سے اس پلاٹ،  فلیٹ یا گھر کے لئے کٹواتا ہے جس کے لئے اسے ہر جگہ یہ سننے کو ملتا ہے
کہ "تمہارے مزے ہیں بھئی سب فری ملتا ہے"۔۔۔۔۔




سرمایہ کفالت یا حصہ رسدی یعنی Provident fund  کس سرکاری یا نجی ادارے میں نہیں ہوتا ؟ اسی طرح فوج میں ملازم ہر شخص کم یا زیادہ سرمایہ کفالت اپنی تنخواہ سے کٹواتا ہے۔ سات لاکھ افراد کی تنخواہ سے کٹنے والا فنڈ آرمی ویلفئر ٹرسٹ اور دیگر اداروں کی سرمایہ کاری میں لگتا ہے اور منافع ہر ملازم کو اس ہی تناسب سے ریٹایئر منٹ کے وقت ملتا ہے۔۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ فوج، نیوی اور ائر فورس کے دس لاکھ کے قریب ملازمین کو جو تنخواہ دفاعی بجٹ سے ملتی ہے وہ بھی تو اس ملک کے اندر ہی خرچ ہوتی ہے۔





رہی بات فوج کا آڈٹ۔ پاکستان آرمی، نیوی، اور ائر فورس کا آڈٹ، تنخواہیں اور ٹی اے ڈی ایک الگ ادارے (کنٹرولر آف ملتری اکاؤنٹس) کی ذمہ داری ہے جو مکمل طور پر سول ہے، جس کے تمام ملازمین سویلین ہوتے ہیں افسران بالا سی ایس ایس پاس کرکے آتے ہیں۔ ہر سال، تین سال اور پانچ سال بعد آڈٹ ہوتا ہے جو Audit Objections لمبے عرصے تک حل نہیں ہوتے وہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جاتے ہیں جسکا چیئر مین اپوزیشن لیڈر ہوتا ہے۔  آڈٹ کی باقی تفصیلات کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس کی ویب سائٹس پر دیکھی جاسکتی ہیں (http://www.pmad.gov.pk/index.php?p=internal-auditing)پاکستان ملٹری اکاؤنٹس ڈپارٹمنٹ کا آڈٹ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان کا ادارہ کا کرتا ہے۔

تعصب کی عینک کو اتار کر دیکھا جائے اور اندھی تنقید نا کیجا ئےتو "70 اور 80 فیصد بجٹ"، "فوج کے کاروبار"  " تمہیں تو سب مفت ملتا ہے" اور " فوج کا آڈٹ نہیں ہوتا " بچپن سے ہمارے دماغوں میں پیدا کئے جانے والےواہمے ہیں۔۔۔۔

بے ربط خیالات~

No comments:

Post a Comment